خالد جاوید چوہدری
برصغیر پاک و ہند میں جب چاروں طرف غلامی کی تاریکیاں چھانے لگیں، جب رگوں میں زندگی کا خون منجمد ہونے لگا، جب حوصلوں کی چمک ماند پڑنے لگی، آزادی کا تصور رکھنا بھی بغاوت سے تعبیر کیا جانے لگا اور زندگی مردہ دلی بن کر رہ گئی تو فکری بے حسی اور ذہنی پسماندگی کے اس ظلمت کدے میں علامہ اقبال کی شخصیت امید کی روشن کرن کی حیثیت سے نمودار ہوئی۔ آپ سمجھتے تھے کہ آزادی کی نعمت سونے کی طشتری میں سجا کر پیش نہیں کی جاتی۔
بلکہ لیلائے آزادی کے حصول کی خاطر آگ اور خون کے دریا عبور کرنا پڑتے ہیں۔ انہیں اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ حصول مقصد کے لئے جس سخت کوشی، مستقل مزاجی، الولعزمی، صبر و تحمل، برداشت، نیک نیتی اور جد و جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ وہ صلاحیتیں قوم مسلم میں موجود تو ہیں لیکن ان صفات سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اس شعوری آگاہی اور ذہنی بیداری پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اسی مقصد کو آپ نے اپنا مقصد حیات بنالیا۔ آپ پوری زندگی تحریروں، تقریروں اور عمل کے ذریعے اسی مقصد کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔
آپ حکیم الامت بھی تھے اور ترجمان اسلام بھی۔ انہیں اس حقیقت کا شعوری ادراک تھا کہ بر صغیر کے مسلمان اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک یہ ایمان و یقین کی منزلوں کو دلوں میں نہ بسا لیں۔ وہ دور مسلمان قوم پر ضرب کاری لگا چکا تھا۔ مسلمانوں پر بے یقینی کا عالم طاری تھا۔ وہ مالی، مادی، علمی، معاشرتی، مذہبی اور قومی غرض ہر شعبہ زندگی میں وقت کی دھول میں گم ہو چکے تھے۔ احساس زیاں تک رخصت ہو چکا تھا۔ سینکڑوں برس حکمرانی کرنے والی قوم ذلت خواری کی خاک چاٹ رہی تھی۔
مایوسیوں اور نا امیدیوں کے اس ظلمت کدہ میں علامہ اقبال کی آواز بانگ درا ثابت ہوئی اور انہوں نے مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ یاد دلاتے ہوئے ان میں عزت نفس کا احساس پیدا کیا۔ عزت نفس جو مال و دولت اور دنیاوی شان و شوکت سے ماورا ہے۔ جو فقیری میں بادشاہی اور درویشی میں سلطانی کی مسندوں پر جلوہ گر ہے اور یہی فلسفہ خودی ہے۔ جو اپنی ذات کو کھوجنے، سنوارنے اور چمکانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اقبال کا مرد مومن خودی کی عظمتوں کا علم بردار اور توحید کی رفعتوں کا شناسا ہے۔
یہ مرد مومن شاہین کی صورت جھپٹتا اور طوفان کی صورت آگے بڑھتا ہے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالتا اور چاند سورج اور ستاروں کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا فقر رشک بادشاہی ہے۔ اس کی قلندرانہ اداؤں پر شکوہ سکندری قربان ہے۔ اس کا ہر عمل اسوۂ رسول ﷺ کا نمونہ اور عظمت سلاف کا ترجمان ہے۔ یہ مرد مومن ماضی سے روشنی لیتا ہے، حال کے مرکب پر سواری کرتا ہے اور مستقبل کے زمانے کو اپنی گرفت میں لینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ وہ ضرب کلیم میں اپنی نظم مرد مسلماں میں اس کی صفات کو اس طرح اجاگر کرتے ہیں۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
ہمسایہ جبریل امین بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشاں
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں
قدرت کے مقاصد کا عیاں اس کے ارادے
دنیا میں بھی میزان قیامت میں بھی میزان
جس سے جگر الالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں
فطرت کا سرود ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفت سورۃ رحمٰن
خودی فقر اور عشق جس شخص میں جمع ہوں گے وہ اقبال کے نزدیک مرد مومن ہو گا۔ اقبال اپنی ایک فارسی غزل میں مومن سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے تجھ پر کمال حیرت ہے کہ آفاق تو تجھ سے روشن ہے۔ لیکن تیری ذات ہی درمیان سے غائب ہے۔ تم کب تک غفلت، گمنامی اور جہالت کی زندگی گزارتے رہو گے۔ تمہاری روشنی نے دنیائے قدیم کو روشن کیا اور تمہارا وجود جو ماضی کی تاریک رات کے لئے منارۂ نور بن کر ابھرا۔ تمہاری آستین میں ہمیشہ ید بیضا موجود رہا۔ تم آج جن گھروندوں میں بھٹک رہے ہو تمہیں معلوم نہیں تم ان کو پھلانگ سکتے ہو۔ تم تو اس وقت بھی تھے جب یہ کائنات نہ تھی اور اس وقت بھی رہو گے جب یہ نہ ہوگی۔ اے مرد مومن تو موت سے ڈرتا ہے۔ حالانکہ تم سے موت کو ڈرنا چاہیے۔
اے مرد مومن تو ناموس ازل کا امین، پاسباں اور خدائے لم یزل کا رازداں ہے۔ تیرا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے گو تیری اٹھان مٹی سے ہے لیکن تجھی سے اس عالم کا وجود بقا ہے۔ میخانہ یقین سے پی اور ظن و تخمین کی پستیوں سے نکل کر بلند ہو جا۔ فرنگ کی دل آویزی کی نہ داد ہے نہ فریاد۔ جس نے عقل و دل کو مسحور و مخمور ناکارہ بنا دیتا ہے۔ فریاد ان بازی گروں سے جو کبھی ناز و ادا سے پکڑتے ہیں اور کبھی بیڑیوں میں جکڑتے ہیں، کبھی شیریں کا کردار ادا کرتے ہیں اور کبھی پرویز کا روپ بھرتے ہیں۔ دنیا ان کی تباہ کاریوں سے ویران ہو کر رہ گئی ہے۔ اے مرد مومن، اے بانی حرم، اے معمار کعبہ، اے فرزند ابرہیم، ایک بار پھر دنیا کی تعمیر کے لیے اٹھ اور اپنی گہری نیند سے بیدار ہو۔
علامہ اقبال کا مرد مومن کسی داستان کا کردار نہیں۔ بلکہ تاریخ اسلام کی روشن حقیقت ہے۔ آپ مسلمان کے عظیم ماضی سے آگاہ ہیں۔ انہیں علم ہے کہ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے کاروان انسانیت کی راہنمائی کا حق ادا کیا۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے قیصر و کسریٰ کے تخت و تاج چھین کر ظلم و بربریت کا خاتمہ کیا۔ یہ مسلمان ہی تھے جو چلتے تو زمین پر تھے لیکن خبر آسمان کی رکھتے تھے۔ صحراؤ دریا ان کی ٹھوکروں میں تھے۔ یہ مسلمان صاحب قبر تھے اور صاحب نظر بھی۔ اقبال ایسے ہی مرد مومن کے آرزومند تھے۔ جو بندہ خاکی ہو کر بھی پرواز لاہوتی رکھتا ہو۔ اس مرد مومن کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ولایت بادشاہی علم اشیاء کی جہانگیری
یہ سب کیا ہیں فقط ایک نقطہ ایماں تقسیری
علامہ اقبال سمجھتے تھے کہ مرد مومن کے روپ میں ڈھل کر ہی مسلمان دینی اور دنیاوی طور پر سرخرو ہو سکتے ہیں۔ عالم انسانیت کو درپیش مسائل کو سلجھانے کے لئے ان مردان حق کی ضرورت ہے جو کلمہ توحید کی چھاؤں میں آگے بڑھ کر بتان آذری کو پاش پاش کر سکیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ اقوم عالم کی حکمرانی مرد مومن کا مقدر ہے۔ عالمگیر حکمرانی کا یہ تاج ماضی میں بھی مرد مومن کا اعزاز رہا ہے اور آج پھر یہ اعزاز اسے آواز دے رہا ہے۔ لیکن شرط یہی ہے کہ مسلمان مرد مومن کے سانچے میں ڈھل جائے۔ اقبال کی حکیمانہ بصیرت آج بھی مسلمان کو یہ پیغام دے رہی ہے۔
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ایک اور جگہ وہ مرد مومن کی تصویر ان الفاظ میں کھینچتے ہیں۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تونے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحراؤ دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
وہ مسلمانوں کو عظمت رفتہ کا احساس دلانے کے لئے مرد مومن کا تصور پیش کرتے ہیں۔
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
مکان فانی مکین آنی ازل تیرا ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہے
تو یہ تھا اقبال کا مرد مومن، مگر بے یقینی اور بے عملی کی گرد نے اس کی شخصیت اور کردار کی اٹھان کو تکمیل پذیر نہ ہونے دیا۔ لیکن اقبال کی سرخروئی اپنی جگہ قائم ہے۔ اقبال کا مرد مومن کوئی تصوراتی کردار نہیں ہے۔ وہ کہیں تشکیل پا رہا ہے اور خدائے بزرگ و برتر اسلام کو اور پاکستان کو یقیناً کبھی مرد مومن عطا کرے گا اور وہ اس کے خواب کی تعبیر کے سارے قیمتی اور روشن پہلوؤں کے ساتھ ہمیں اپنے عظیم مذہبی نظریے کے قریب تر لے جائے گا اور ہم اقبال کے نہ صرف رو برو ہوں گے بلکہ سرخرو بھی ہوں گے۔ انشاء اللہ